آب زمزم سے متعلق دستاویزی فلم میں حیرت انگیز انکشافات

مسجد حرام میں آب زمزم کا یومیہ استعمال 7 لاکھ لیٹر کے قریب ہے جب کہ رمضان اور حج کے سیزن میں یہ مقدار یومیہ 20 لاکھ لیٹر تک پہنچ جاتی ہے

دبئی،23۔مئی،ہ س :آب زمزم اپنے آپ میں مقدس اور قابل احترام پانی ہے جو ہمیںمتعدد مذہبی تقدس کی یاد دلاتا ہے ۔احادیث مبارکہ میں آب زمزم سے متعلق جو فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس کے سبب دنیا بھر کے مسلمان اسے قابل احترام اور تبرک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔عمر اور حج کے دوران دنیا بھر کے مسلمان اسے بوتلوں میں بھر کے اپنے اپنے وطن بطور تبرک لے جاتے ہیں اور تقدس و احترام کے ساتھ اس کا استعمال کرتے ہیں۔اتنی بڑی مقدار میں آب زمزم دنیا بھر کے مسلمانوں تک پہنچنے والا یہ پانی کیسے ایک لمبے عرصے سے محفوظ اور صاف و شفاف ہے ؟یہ ایک تحقیق طلب مسئلہ ہے ۔کیونکہ آج کے آلودگی کے ماحول میں بھی اسے آلودگی سے پاک رکھنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج سے بخوبی نمٹا جا رہا ہے ۔اس سلسلے میں حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈینسی نے دستاویزی فلم بنا کر لوگوں کے سامنے آشکارا کیا ہے کہ اس متبرک کوئیں کا کس طرح رکھ رکھاو¿ کیا جا رہا ہے ۔ اور کن مراحل سے گزرنے کے بعد ہم تک پہنچتا ہے ۔
حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے “زمزم : آب مبارک” کے نام سے ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے۔ فلم میں کنوئیں سے آب زمزم کے نکلنے اور اس کے بعد مختلف مقامات تک پہنچنے کے مراحل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ زمزم کا کنواں مسجد حرام کے اندر مطاف کے صحن میں بیت اللہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر زیر زمین واقع ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق فلم میں بتایا گیا ہے کہ زمزم کے کنوئیں سے باہر آنے والے میٹھے پانی کی اوسط رفتار کم از کم 11 لیٹر فی سیکنڈ اور زیادہ سے زیادہ 18.5 لیٹر فی سیکنڈ ہے۔ زمزم کے کنوئیں کی گہرائی صرف 31 میٹر ہے۔ کنوئیں سے پانی کھینچنے کے لیے دو بھاری پمپوں کا سہارا لیا جاتا ہے جو شفٹوں میں 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ پانی کو کھینچ کر خود کار طریقے سے خصوصی پائپ لائنوں کے ذریعے “کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز پروجیکٹ” بھیجا جاتا ہے۔ یہ پروجیکٹ مکہ مکرمہ کے علاقے کدی میں واقع ہے۔
دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ آب زمزم کو خصوصی ٹینکروں کے ذریعے مدینہ منورہ بھیجا جاتا ہے۔ ان ٹینکروں میں موجود پانی اس طریقے سے مقفّل کیا جاتا ہے کہ وہ مسجد نبوی میں متعلقہ اہل کار ہی کھول سکتا ہے۔ عام دنوں میں روزانہ اوسطا 1.5 لاکھ لیٹر زمزم مدینہ منورہ بھیجا جاتا ہے جب کہ رمضان اور حج کے سیزن میں یہ مقدار روزانہ 4 لاکھ لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔آب زمزم کو جراثیم سے پاک کولروں میں بھر کر مسجد حرام اور مسجد نبوی پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد برقی گاڑیوں کے ذریعے ان کولروں کو حرمین میں متعین مختلف مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔ کولروں کی مجموعی تعداد 40 ہزار کے قریب ہے جن میں پینے کے لیے ٹھنڈا اور سادہ دونوں حالتوں میں آب دستیاب ہوتا ہے۔ کولروں کے ساتھ پلاسٹک کے گلاس رکھے جاتے ہیں جن کا یومیہ استعمال 20 لاکھ کے قریب ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسجد حرام میں آب زمزم کا یومیہ استعمال 7 لاکھ لیٹر کے قریب ہے جب کہ رمضان اور حج کے سیزن میں یہ مقدار یومیہ 20 لاکھ لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ حرمین کے امور کی پریذیڈنسی آب زمزم کے تحفظ اور اسے کسی بھی قسم کے جراثیم اور آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے۔ اس سلسلے میں 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات سے زمزم کے پانی کے یومیہ 100 نمونے لے کر ان کو اس مقصد کے لیے بنائی گئی خصوصی لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
سال 2010ءمیںکنگ عبد اللہ بن عبد العزیززمزم واٹر پروجیکٹ کا قیام عمل میں آیا۔ مکہ مکرمہ کے علاقے کدی میں واقع اس منصوبے کا مقصد آب زمزم کو سہل ترین طریقوں سے لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ آب زمزم کے تحفظ اور اسے آلودگی وغیرہ سے پاک رکھنا ہے۔یہ منصوبہ آب زمزم کو ذخیرہ کرنے کے لیے مرکزی خود کار ویئر ہاوس پر مشتمل ہے۔ اس کے ذریعے روزانہ آب زمزم کے 10 لیٹر والے 15 لاکھ کین تقسیم کیے جاتے ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ