شامی مہاجرین کے املاک ضبط کررہی ہے اسدی حکومت

ایمنیسٹی انٹرنیشنل ،امدادی جماعتوں اور تنظیموںکا اظہار تشویش، بشار الاسد نے متنازعہ قانون کا دفاع کیا

دبئی،27مئی، ہ س:شامی حکومت کے ایک اعلان کے مطابق دمشق کے قریب واقع علاقے القابون کو قانون نمبر 10 میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ قانون شامی صدر بشار الاسد نے تقریبا دو ماہ قبل جاری کیا تھا اور یہ ہجرت کرنے والے شامیوں کی املاک ضبط کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
قانون نمبر 10 کو شامی حکومت کی جانب سے لاگو کیا جانے والا ’قومیانے‘ کا ایک نیا عمل شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون گزشتہ اپریل سے نافذ العمل ہوا اور اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت ملک کے ان علاقوں کی تعمیر نو کا ارادہ رکھتی ہے جہاں اپوزیشن کے جنگجووں کو شکست سے دوچار کیا گیا۔اگرچہ یہ قانون اس چیز کو پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے جو جائیداد کی ملکیت اور زر تلافی کا مطالبہ ثابت کرے تاہم اس سے بہت کم تعداد مستفید ہو سکے گی۔امدادی جماعتوں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے جو جنگ سے قبل نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل تھے انہیں اس نوعیت کی ضروری دستاویزات پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔قانون نمبر 10 کا مقصد قانونی دستاویزات کے بغیر بنائی گئی تعمیرات کو ہدف بنانا ہے۔ واضح رہے کہ جائیداد رکھنے والے بہت سے مالکان جنگ میں قتل ہو چکے ہیں۔ادھر یورپی یونین کا کہنا ہے کہ قانون نمبر 10 پناہ گزینوں کی واپسی روک دے گا۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ قانون سماجی ڈھانچے میں تبدیلی لے آئے گا۔دوسری جانب شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون جاری ہونے کے بعد پیدا ہونے والی پریشانی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس پریشانی کو پھیلانے کا مقصد حکومت کے خلاف رائے عامّہ بھڑکانا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ