ای وی ایم اور وی وی پیٹ کے خرابی سے متعلق خبریںمبالغہ آرائی پر مبنی

کسی بھی ای وی ایم وی وی پیٹ کو پولنگ اسٹیشن پر بدلنے میں عام طورپر 30 منٹ سے بھی کم وقت لگتاہے : الیکشن کمیشن

نئی دہلی،28مئی،ہ س:الیکشن کمیشن نے کہا کہ میڈیامیں اس طرح کی خبریں کہ مہاراشٹر اور اترپردیش میں جاری ضمنی انتخابات میں مبینہ طورپر بڑی تعداد میں ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی خراب ہوئی ہیں اور ان سے انتخابات میں رخنہ پڑا ہے، مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق کمیشن لوک سبھا یا ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لئے ہونے والے ہر عام ضمنی انتخابات کے لئے ریزرو میں مناسب تعداد میں الیکٹرک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم)اور وی وی پیٹ فراہم کرتا ہے۔اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر ضرورت کے مطابق ای وی ایم اور وی وی پیٹ کے علاوہ مناسب تعداد میں ای وی ایم اور وی وی پیٹ (25-20فیصد) تک ریزرو میں رکھی جاتی ہیں، تاکہ پولنگ کے دن کسی بھی خراب مشین کو فوری طورپر بدلہ جاسکے۔یہ ریزرو مشینیں سیکٹر افسران کے پاس رکھی جاتی ہیں، جو کسی بھی پولنگ اسٹیشن سے ای وی ایم وی وی پیٹ کے کام نہ کرنے کی رپورٹ موصول ہوتے ہیں اسے بدل دیتے ہیں۔چونکہ سیکٹر افسر کے تحت 12-10 پولنگ اسٹیشن ہی ہوتے ہیں، اس لئے کسی بھی ای وی ایم وی وی پیٹ کو پولنگ اسٹیشن پر بدلنے میں عام طورپر 30 منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ حقیقی پولنگ کے دوران خراب ای وی ایم وی وی پیٹ کو تبدیل کرنا ایک معمول کا عمل ہے اور اس سے پولنگ کے عمل پر کسی بھی طرح اعتماد یا دیانتداری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔اس کے علاوہ خبروں کے کچھ چینلوں پر یہ خبر بھی نشر کی گئی ہیں کہ مہاراشٹر میں بھنڈاراگونڈیا پارلیمانی حلقے میں 35 پولنگ مراکز کے پولنگ منسوخ کی جارہی ہے۔ یہ خبر بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔اس کے علاوہ اسی پارلیمانی حلقے میں 25 فیصد پولنگ مراکز میں ای وی ایم وی وی پیٹ ٹی خراب ہونے سے متعلق خبریں بھی درست نہیں ہے۔اس بھی کی بھی وضاحت کی جاتی ہے کہ بھنڈارا گونڈیا پارلیمانی حلقے میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ منسوخ نہیں کی گئی ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی ہے وہاں مشینیں تبدیل کرکے بلاوارکاوٹ ووٹنگ جاری ہے۔ البتہ آر اوڈی ای اوسی ای او کی طرف سے پولنگ میں طویل رکاوٹ کی خبرموصول ہوتی ہے تو کمیشن ان معامعلات میں کیس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ