14جولائی سے شروع ہونگی دہلی عازمین حج کی پروازیں

نئی دہلی،29۔مئی ،ہ س:دارالحکومت دہلی سے عازمین حج کو مقدس فریضہ حج کرانے کے لئے سعودی عرب لے جانے کی ساری تیاریاں تقریباً مکمل ہوگئی ہیں۔ دہلی کے عازمین کی پہلی پرواز 14جولائی سے شروع ہونے والی ہے۔ دہلی کے سبھی عازمین کو مدینہ لے جانے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔تمام عازمین کو ترکمان گیٹ میں واقع حج منزل میںتین جولائی سے ٹیکہ لگانے کی شروعات کی جائے گی۔ اس مرتبہ دہلی سے تقریباً22سو عازمین حج کرنے کے لئے جارہے ہیں۔ پہلی مرتبہ دہلی ایئر پورٹ سے 1000 جموں وکشمیر کے عازمین بھی پرواز بھریں گے۔اس کے علاوہ دہلی ایئرپورٹ سے اترپردیش، ہریانہ پنجاب، ہماچل اور اتراکھنڈ کے 19ہزار سے زیادہ عازمین بھی روانہ ہوں گے۔
دوسری جانب حج بیت اللہ پر روانہ ہونے والے عازمین حج کو جہاں حکومت ہند، حج کمیٹی آف انڈیا اور دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے ہر ممکن سہولیات مہیا کرائی جاتی ہیں وہیں اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے میں مملکت سعودی عربیہ اور دہلی میں موجود سعودی عربیہ سفارت خانہ اور کونسلیٹ کا اہم کردار رہتا ہے۔ یوں تو مرکزی وزارت اقلیتی امور اور دیگر وزارتوں حج کمیٹی اور ایجنسیوں کا بھی اپنا اپنا اہم رول ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستانی عازمین حج کے لیے سعودی حکومت کی مہمان نوازی اور اس کے سفارت خانہ کی خدمات اور تعاون سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سعودی سفارت خانہ حج مشن کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے جو اس فریضہ حج کی کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کے دارالحکومت دہلی میں سعودی عرب سفیر سعود بن محمد الساطی کی قیادت میں حج مشن کو کامیابی کا عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ سعودی حکومت عازمین کی سہولتوں کے بہت سے کام انجام دے رہی ہے۔مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ اور جدہ سے دہلی تک کے سفر کو 24گھنٹے میں مکمل کرنے جا رہی ہے۔حکومت کی جانب سے عازمین حج کے لیے میٹرو کا انتظام کردیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر بنانے میں سفیر کا اہم کردار ہوتا ہے۔جس کو ہندوستان میں سعودی سفیر جناب سعود بن محمد الساطی بہتر طریقہ سے ادا کررہے ہیں۔ جناب الساطی ہندوستانی حاجیوں کے سعودی سفارت خانہ سے ہونے والے کاموں میں دلچسپی لیتے ہوئے ان کو فوری انجام دیتے ہیں اور سعودی عرب میں بھی حاجیوں کی ہر ممکن مدد فراہم کراتے ہیں۔ حج مشن میں سعودی سفیر سعود الساطی کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ یہ ان ہی کی کوشش ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے ای پیپر ویزا کردی گئی ہے۔ جس کا بڑافائدہ ہے کہ اگر کسی کا ویزا پیپر کھو بھی جائے تو آسانی سے اس کا پرنٹ آوٹ نکالا جا سکتا ہے اور تمام عازمین کا ریکارڈ آن لائن مہیا ہے۔
سعودی سفیر الساطی خود حج مشن میں دلچسپی رکھتے ہوئے تمام کام جلد انجام دلاتے ہیں۔ ان ہی کی دلچسپی کی وجہ سے حج کمیٹی کے ذریعہ یا پرائیوٹ جانے والے حاجیوں کے اہم کام حج ویزا کو جلد سے جلد جاری کیا جارہا ہے۔ تاکہ حاجی کو اس کی حج پرواز کی اطلاع وقت پر ہو جائے اور وہ اپنی تیاریاں مکمل کرلیں۔سعودی حکومت کی جانب سے اس بات کی بھی وضاحت کی جاچکی ہے کہ 2ہزار ریال ادا کرنا صرف حج یا عمرہ کے لیے نہیں بلکہ یہ ایک بار سے زیادہ سعودی عرب میںداخلہ فیس ہے۔ جو بھی ایک بار سے زیادہ سعودی عرب میں داخل ہوگا خواہ وہ عمرہ، حج یا کسی بھی سلسلہ میں ہو اسے 2ہزار ریال ادا کرنے ہونگے۔ یہ ایک بہتر قدم ہے اس سے نئے لوگوں کو جانے کے مواقع فراہم ہونگے اور جو لوگ حج کی سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں ان کو موقع فراہم ہوگا۔یاد رہے کہ دہلی حج کمیٹی میں حاجیوں کے لیے ٹیکہ لگانے کا سلسلہ3جولائی2018سے شروع ہوگا اور ہوائی پروازیں14جولائی2018سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ دہلی سے سعودی عربیہ ایئرلائنس حاجیوں کی خدمات انجام دے گی اور دہلی کے تمام حاجی مدینہ کے لیے روانہ ہونگے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ