بینک کے10 لاکھ ملازمین ہڑتال پر، اے ٹی ایم سمیت تمام خدمات معطل

لکھنو، 30۔ مئی ،ہ س:تنخواہ بڑھنے اور مرکزی حکومت کی پالیسیوںکو لے کر سرکاری بینک ملازمین دو روزہ ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ ملازمین کی ہڑتال کے سبب بدھ اور جمعرات کو بینک بند رہیںگے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یونائیٹیڈ فورم آف بینک (یو ایف بی یو)کی قیاد ت میں ملک کے تمام سرکاری بینکوں کے علاوہ کچھ پرائیویٹ اور غیر ملکی بینکوں کے تقریباً 10لاکھ ملازمین بدھ کے روز سے دو روزہ (30 و 31مئی ) کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ ملازمین تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں سے ملازمین کی تنخواہوں اور الاﺅنس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے لئے آئی بی اور مرکزی حکومت کو بھیجی گئی تجویز میں تنخواہ اور الاﺅنس میں محض دو فیصد اضافہ کی بات کہی گئی تھی جو ملازمین کو منظور نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تنخواہ اور الاﺅنس میں 15فیصدی اضافہ کیا جائے۔ اپنے مطالبات کو لے کر سرکاری بینک کے تمام ملازمین ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ سرکاری بینک کے ملازمین کوکچھ پرائیویٹ بینک کے ملازمین کا ساتھ بھی ملا ہے۔ ایسے میںدو دنوں کی ہڑتال سے ان پر مالی دباﺅ مزید بڑھ سکتا ہے۔ این پی ایے وصولی جیسی سرگرمیوں پر بھی اثر ہوگا۔ بینک ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو وہ جلد ہی غیر میعادی ہڑتال پر چلے جائیں گے۔

بینک بند ہو نے سے گاہکوں کی پریشانی بڑھی
دودن کے لئے بینکوں کی ہڑتال نے گاہکوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ ان دو دنوں میں تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاترکے ملازمین کی تنخواہیںان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے کاروباری بھی ایک ماہ یا 15دن کی آمدنی بینک میں جمع کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر نکالتے بھی ہیں۔ دو دن کی ہڑتال ہونے سے بینک صارفین پریشان ہیں۔ ایسے میں صارفین اے ٹی ایم کا سہارا لے رہے ہیں۔

اے ٹی ایم بھی رونے لگے
دو روزہ بینک ہڑتال کی معلومات زیادہ تر لوگوں کو ہونے کی وجہ سے لوگوں نے اے ٹی ایم جا کر پیسے نکال لئے ہیں۔ اب لو گ جب اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کے لئے جارہے ہیں تو کئی اے ٹی ایم میں پیسے ختم ہوگئے ہیں۔ اے ٹی ایم میں پیسہ نہ ہونے پر سیکورٹی میں لگے گارڈ وں کے ذریعہ گاہکوں کو نیٹ ورک کی پریشانی ہونے کی بات کہہ کر لوٹایا جا رہا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ