میری پہلی فلم ہی جانداررہی جولوگوں کے دلوں پر نقش چھوڑ گئی:جیا علی

لاہور، 30۔ مئی: اداکارہ وماڈل جیا علی نے کہا ہے کہ فلمیں بنتی ہیں اورلوگ ان کو دیکھ کرکچھ عرصہ یاد رکھنے کے بعد بھول جاتے ہیں لیکن فلم بینوں کے زہنوں پرنقوش چھوڑ جانے والی فلمیں کہانی، میوزک، لوکیشن اورفنکاروں کی عمدہ اداکاری کی بدولت ہمیشہ ان کے دل ودماغ پرچھائی رہتی ہیں۔

Image result for jia aliجیا علی نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کے ماضی میں اگرجھانکیں توایسی بہت سی فلمیں بن چکی ہیں، جن کولوگ آج بھی یاد کرتے ہیں بلکہ دیکھتے ہوئے خوب انٹرٹین ہوتے ہیں۔ اگراسی طرز کی فلمیں آج کے دورمیں بننے لگیں تواس کے مثبت نتائج سامنے آئینگے، ایک فنکارکی زندگی میں بھی کچھ پروجیکٹس ایسے ہوتے ہیں، جن کو کبھی بھلایا نہیں جاتا۔ میرے نزدیک میری پہلی فلم کی کہانی اس قدرجاندارتھی اوراس کے کرداربھی حقیقت کے قریب ترتھے کہ ان کوزبردست رسپانس ملا۔ پہلی ہی فلم میں اچھا کردارملنا اورپھرکوشائقین کی جانب سے ملنے والا رسپانس کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ دیکھاجائے تو اس وقت پاکستان میں فلموں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

Image result for jia aliجہاں فلموں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، وہیں اس کے معیارمیں بھی بہتری آرہی ہے۔ نوجوان فلم میکرز انٹرنیشنل مارکیٹ کوٹارگٹ بنا کراچھا کام کررہے ہیں۔ فی الوقت ایسی فلمیں تونہیں بن رہی ہیں، جن کویادگارکہا جاسکے لیکن امید کی کرن ضروردکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے فنکاراورتکنیکاربہت ٹیلنٹڈ ہیں۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، وہ عوام کواچھی اورمعیاری تفریح فراہم کرنے کیلیے کام کرتے رہتے ہیں۔

Related imageایک سوال کے جواب میں جیاعلی نے کہا کہ میں یہ تونہیں کہہ سکتی کہ یہ کوئی بھی کرداریا فلم شاہکارہوتی ہے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتی ہوں کہ جب کسی پروجیکٹ پرپوری ٹیم ایمانداری سے اپنا کام انجام دے تواس کے نتائج مثبت ہی ہوتے ہیں۔ یہی نہیں اب توسوشل میڈیا کے ذریعے فلم، ڈرامے اورگیت کی پسند اور ناپسندیدگی کا رسپانس فوری ہی مل جاتا ہے۔ اس لیے سب لوگ بہت محتاط ہو کر کام کرتے ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ