آپ کی  زکات  قرآن میں درج کن کن مدوں پر ہوتی ہے  ؟

اشرف علی بستوی   

اگرکوئی آپ سے یہ پوچھے کہ اس سال  آپ نے کتنے قرض داروں کی مالی مدد کی ہے ، کتنے بے قصور قیدیوں کو چھڑانے میں اپنا مال خرچ کیا اور کتنے مسافروں کی امداد کی تو شاید یہ جواب آپ کے لیے مشکل ہو لیکن اگر کوئی یہ پوچھے کہ اس سال رمضان میں کتنے  مدارس کو اپنی زکات کی رقم  دی تو آپ  رشیدوں کا بنڈل سامنے کر دیں گے . آپکا جواب ہوگا کہ ہمارے پاس جو آیا ہم نے اسے دیا ، لیکن آپ کا یہ جواب شاید مکمل نہیں ہے ،اس سے آپ اپنی ذ مہ داریوں سے  بچ نہیں سکتے ذرا غو کیجیے جس معاشرے میں زکوت کا نظم ہو اس معاشرے کا  نوجوان  بنگلوکا نثارالدین 23 برس تک جیل میں پڑا رہتا ہے  اس درمیان اس کا گھر بار تباہ ہو جاتاہے اس کا بچہ غربت و افلاس کی وجہ سے تعلیم حاصل  نہیں کر سکا ، اس کی آبائی جائیداد مقدمے کی نظر ہو گئی  بلکہ اس کے والدین کو گھر کی نصف آراضی کو بھی فروخت کرنا پڑا  ۔ جس آبادی میں نثار کا خاندان آباد تھا کیا اس آبادی میں زکات دینے والے نہیں تھے ،آخر کیا وجہ ہے رہی کہ کسی نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی ؟ نثار الدین کا یہ واقعہ ہماری ترجیحات کے تعین کو بھی  ظاہر کرتا ہے ۔ ہر سال کروڑوں کی زکات نکالنے والی ملت کی کسمپرسی کا یہ عالم کہ ایک مقروض والدین کی بچی بن بیاہی بیٹھی رہ جائے  یہ سب ہماری بے توجہی کی وجہ سے ہی تو ہے ، جبکہ ہم ہر سال کروڑوں کی رقم زکات کے طور پر نکالتے ہیں، اجتماعی نظم زکات کی باتیں بھی ہم خوب کرتے ہیں ، اپنی تقریروں اور تحریروں میں با رہا یہ دہراتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے زکات کا نظم درست کر لیں تو مسلمانوں کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں ۔ اگر زکات نکالنے والے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ان کے آس پاس کیا ایسے جو لوگ ہیں ان میں مستحق  ہیں تو حالات تبدیل ہونے لگ جائیں گے ، لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ اتر پردیش کے کسی گاوں سے تعلق رکھتا ہے ممبئی یا اور کسی بڑے شہر میں کاروبار کرتا ہے اور اس کی زکات  اڈیشہ کے کسی مقام پر قائم تعلیم گاہ کے لیے جاتی ہے جبکہ اس کے اپنے گاوں میں اور رشتہ داروں میں مستحقین کی لمبی فہرست ہے ۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا  کہ کن کن مدات پر زکات  خرچ کی جانی چاہیے ؟ نہیں نا !  آپ کی یہی تن آسانی اورسہل پسندی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ کروڑوں کی زکات نکالنے کے باوجود محروم رہ جاتے ہیں ۔ براہ کرم اس بار اپنی فہرست میں قیدیوں ،قرض داروں اور مسافروں کا حصہ بھی شامل کر لیں ،  قرآن میں درج  زکات کے  دیگرسبھی  8 مدات پر خرچ کر نے کا منصوبہ بنائیں ۔ ہر سال کی طرح امسال بھی پہلی رمضان سے ہی زکات وصول کرنے والے حضرات ہاتھوں میں رشید اور مدرسے کی زیر تعمیرعمارت کی تصویر لیے آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہوں گے  ۔ زکات وصول کرنے والوں کی اکثریت مدارس و مکاتب کے لوگوں کی ہوتی ہے،  جو سلام و کلام سے فارغ ہوتے  ہی مدرسے  کی آمدو خرچ کا سالانہ گوشوارہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ،ان کی توجہ آپ کو یہ باور کرانے میں ہوتی ہے کہ مدرسہ ہذا  کا بجٹ مستقل خسارے میں ہے ، مدرسے کے فلاں سیکشن کی عمارت نامکمل ہے  آپ کی توجہ درکار ہے۔  اس بار جب وہ مدرسے کابجٹ پیش کریں تو آپ ان سے یہ  ضرور پوچھیں  کہ جن بچوں کی تعلیم اور کفالت آپ کا مدرسہ کر رہا ہے ان کی تعلیم اورکفالت پر کیا کرچ کیا جا رہا ہے ؟آپ کے یہاں تعلیم کا معیار کیا ہے؟ اساتذہ کی تربیت اور ان صلاحیت سازی کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں ؟ یقینا وہ ان تمام سوالوں کے جواب سے سے گریز کریں گے ، ان میں کتنے جعلی رشید لیے پھر رہے ہوں گے ان کی شناخت اور تصدیق کیسے کریں گے ؟ بعض مدارس نے تو موٹے کمیشن پر مستقل سفیر مقرر کر رکھا ہے جو پچاس فیصد تک لیکر زکات وصول کرتے ہیں ۔ یعنی آپ کی زکات کا بڑا حصہ کمیشن کی نذرہوجاتا ہے ،یہ بھی ایک قابل غور پہلو ہے ۔ اور اب تو مکاتب اور مدارس میں اساتذہ کے تقرر کا پیمانہ بدل گیا ہے  ۔ اساتذہ کا تقرر کرتے وقت انتظامیہ اب یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کی کس مضمون پر دسترس ہے ، آپ کا علمی ذوق کیا ہے۔  بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ سال میں چندہ کتنا لائیں گے ؟ بعض چھوٹے مدارس میں ایک شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ ہاسٹل میں رہ کر پڑھنے والے بچے کتنے لائیں گے ۔ یہ کوئی الزام یا بہتان تراشی نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے آپ بھی اپنے آس پاس دیکھ سکتے ہیں کبھی کبھی نکل کر جائزہ لیں ۔ اسلام نے ملت اسلامیہ کو زکات کا نظام  کیوں دیا تھا ؟ اس کا جواب تلاش کیجیے ، اصل کامیابی تو تبھی ہے جب آج کا زکات لینے والا کل زکات دینے والا بن جائے ۔

آپ کو چاہیے کہ حتی الامکان اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی زکات مستحقین تک پہونچے اور ان پر خرچ ہو ، آپ کا یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جانا کہ ہم نے تو اپنی جانب سے ادا کردی اب وہ جانیں جنہوں نے وصول کیا ہے،  اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے  جعلی زکات وصول کرنے والوں کی  حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مستحقین محروم رہ جاتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے ۔  قرآن کریم کے حکم کے مطابق 8 مصارف زکوت کے بتائے گئے ہیں ۔ 1 فقیر2مسکین3عاملین زکات (زکات کے انتظامى امور سنبھالنے والے4 تالیف قلب 5گردنوں کے چھڑانے کے لیے (بے قصور مسلمان قید 6قرض داروں کی مدد7 دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ 8مسافر۔ اب آپ یہاں رک کر ایک لمحے کے لیے سوچیں  اپنا جائزہ لیں آپ اپنی زکات متذکرہ بالا کن کن مصارف میں خرچ کرتے ہیں زکات کی ادائیگی میں تمام مصارف کو سامنے رکھیں۔ آپ جس مقام پر رہتے ہیں اپنے آس پاس آپ کے رشتے دار و احباب کے سرکل میں بھی ایسے نادار ضرورت مند ضرور ہوں گے جو آپ کی زکات و صدقات کے زیادہ مستحق ہیں،اس بارذرا اپنی فہرست  میں ترمیم کر کے دیکھیں ، کافی لوگوں کا بھلا ہو جائے گا ۔ اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ صاحب حیثیت فرد جو ہر سال لاکھوں روپئے زکات  نکالتا ہے  وہی جب اپنی سوسائٹی میں کسی ضرورت مند رشتہ دار یا پڑوسی کو قرض دیتاہے  ، تو یہاں نیت غریب کی مدد نہیں ہوتی بلکہ ان کی نگاہ اس سودی کاروبار کرنے والے اس ساہوکار کی سی ہوتی ہے جو قرض کے بدلے  غریب کی کسی آراضی کو ہڑپنے  کی منصوبہ بندی کیے رہتا ہے۔  یہی نیت ایک  صاحب حیثیت مسلمان کی بھی ہوتی ہے تاکہ ایک دن قرض کی ادائیگی نہ کر پانے صورت میں وہ اسے اپنے نام کر لے ۔  ایسی  مدد جو کسی  کو بے گھر کر دے بھلا کس کام کی ۔یاد رکھیں ہر صاحب نصاب کو اپنی زکات کی ادائیگی کے وقت یہ بات اچھی طرح دھیان میں رکھنی چاہیے کہ کیا اس کی زکات ان مصارف میں خرچ ہو رہی ہے جس کا حکم قران میں دیا گیا ہے۔ ہمیں اور آپ کو یہ جائزہ لینا ہوگا  ۔ تقسیم کا نطام کیسے درست ہو۔

مضمون نگار :   نیوز پورٹل ایشیا ٹائمز نئی دہلی کے ایڈیٹر ہیں

 رابطہ : 9891568632

ashrafbastavi@gmail.com

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ