آٹھ ریاستوں میں ہندووں کو اقلیتی طبقے کا درجہ دینے کا معاملہ گرمایا

ریاست پنجاب میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی شرومنی اکالی دل بادل کے محاذ کھولنے سے مرکز پربنا دباو

نئی دہلی ،یکم جون،ہ س:آٹھ ریاستوں میں ہندووں کو اقلیتی طبقے کا درجہ دیئے جانے کی مرکز کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ کی جا رہی کوشش کا حکومت میں شامل شرو منی اکالی دل بادل مخالفت میں کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔معلوم ہوکہ قومی اقلیتی کمیشن آٹھ ریاستوںمیں ہندووں کو اقلیتی طبقے کا درجہ دینے کے لئے ایک عرضی پر سماعت کر رہا ہے ۔اور آنے والی چودہ جون کے دن اس پر حتمی فیصلہ بھی لینے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔دہلی سکھ گرودوارہ کمیٹی نے آج اس سلسلے میں قومی اقلیتی کمیشن کی چیئر مین سید غیور الحسن رضوی کو خط لکھ کر اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ ہونے سے پہلے ان کی بات بھی سننے کا مطالبہ کیا ہے ۔
غور طلب ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے نے آٹھ ریاستوں میں ہندوو¿ں کو اقلیتی طبقے میں شامل کرنے کے لئے عدالت میں ایک عرضی داخل کی تھی۔عدالت نے ان کی اس عرضی کو قومی اقلیتی کمیشن کو بھیج دیا تھا۔اس عرضی پر کارروائی کرتے ہوئے ۔قومی اقلیتی کمیشن میں چھ ماہ پہلے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی اس کمیٹی نے سبھی پہلووں اور تمام ماہرین سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی ہے ۔14جون کے دن عرضی داخل کرنے والے بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کے ساتھ کمیٹی کی آخری میٹنگ ہے ۔ اس میٹنگ کے بعد کمیٹی اپنی رپورٹ تیار کر کے حکومت کے پاس بھیج دے گی۔ اگر کمیٹی کے ذریعہ آٹھ ریاستوںمیں ہندووں کو اقلیتی درجہ دینے کا فیصلہ لیا جاتا ہے تو پنجاب سے سکھوں کو اقلیت ہونے کے ناتے پہلے سے مل رہی تمام مراعات چھین لیجائیں گی اس کی جگہ وہاں اقلیتی طبقے میں شامل ہونے والے ہندووں کو ملنے لگے گی۔اسی طرح کشمیر میںمسلمانوں سے تمام مراعات واپس لے کر ہندوو¿ں کو سونپ دی جائیں گی ا سکے ساتھ ہے لکشدیپ ،میزورم،ناگالینڈ،میگھالیہ،ارونا چل پردیش،منی پورمیں بھی ہندووں کو اقلیتی طبقہ کو ملنے والی تمام سہولتیں اور مراعات ملنا شروع ہو جائیں گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب میں بی جے پی اتحاد میں شامل شرومنی اکالی دل بادل کے ذریعہ شروع کئے گئے احتجاج سے حکمراں جماعت پر کیا اثر پڑتا ہے ۔مرکز کی بی جے پی حکومت پنجاب میں ہندووں کو اقلیتی طبقے کا درجہ دینے کے فیصلے پر کس طرح عمل در آمد کرتی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ