کسانوں کی 10 جون تک ملک گیر ہڑتال

شہروں میں اناج، دودھ سبزی کی قلت شرو ع، پنجاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں بند کا اثر، سیکورٹی کے سخت انتظام

 

کسانوں کے مطالبات:
سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ لاگو ہو۔
فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا منافع ملے۔
چھوٹے کسانوں کی ایک آمدنی طے ہو۔
کسانوں کا قرض معاف کیا جائے۔
پھل، دودھ، سبزی کو سپورٹ پرائس کے دائرے میں لاکر منافع کی قیمت ڈیڑھ گنا طے کی جائے۔

 

نئی دہلی ،یکم جون:شہر میں رہنے والے لوگوں کےلئے آنے والے دن تکلیف بھرے ہوسکتے ہیں کیونکہ کسان 10 جون تک ملک گیر ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ملک کے کئی حصوں پر اس کا اثر صاف نظر آنے لگا ہے۔ پنجاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان سمیت ملک کے کئی حصوں میں کسانوں نے شہروں میں دودھ، سبزی اور پھلوں کی سپلائی روک دی ہے۔کسان مخالف پالیسیوں سے برہم کسانوں نے ملک بھر میں مودی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین نے آج سے 10 جون تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ کسانوں نے اس ہڑتال کے تحت اعلان کیا ہے کہ وہ شہروں میں 10 جون تک دودھ، سبزی اور پھل سپلائی نہیں کریں گے۔ذرائع کے مطابق ملک کے 22 صوبوں کی 130 کسان تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان ریاستوں میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، پنجاب اور مہاراشٹر سمیت کئی دیگر ریاستوں کی کسان تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
بند کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کے کئی حصوں میں اس کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ پنجاب کے موگا اور فرید کوٹ سے سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی پوری طرح بند کر دی گئی ہے۔ بند کے پہلے دن ہی پنجاب سے آنے والی سبزیاں اور پھلوں میں 80 سے 90 فیصد کی کمی نظرآ رہی ہے۔ اگر کسان ایسے ہی اڑے رہے تو آنے والے 10 دنوں میں کھانے پینے کی چیزوں کے دام آسمان چھو سکتے ہیں۔
دراصل کسان یونین نے اپنی مانگوں کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف 10 دن کے ‘کسان اوکاش’ کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی مدھیہ پردیش کے مندسور میں کسانوں نے سبزیوں اور دودھ کو باہر شہر نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ آج تک کے مطابق، کسانوں کا یہ آندولن حکومت کے ذریعے Minimum Support Price(ایم ایس پی)کی ادائیگی کے وعدے کو جلد سے جلد پورا کرنے کو لے کر ہے۔
غور طلب ہے کہ کسانوں کے اس آندولن سے روز مرہ کی چیزوں کو لے کر لوگوں کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ گزشتہ سال کسان تنظیموں نے مدھیہ پردیش کے مند سور میں اپنی مانگوں کو لے کر آندولن کیا تھا،جس میں ریاستی پولیس کی فائرنگ میں 5 کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ بھارتیہ کسان سنگھ نے 1 جون سے 10 جون تک ہونے والی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے گاو¿ں میں میٹنگ بھی کی تھی۔ اس دوران کسانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہڑتال کے دوران پھل، پھول، سبزی اور اناج کو اپنے گھروں سے باہر نہ لے جائیں اور نہ ہی وہ شہروں سے خریداری کریں اور نہ گاوں میں فروخت کریں۔
واضح ہو کہ کسان سوامی ناتھن کمیشن کو لاگو کرنے اور قرض معاف کرنے سمیت کئی دوسری مانگوں کو لے کر ہڑتال پر ہیں۔ کسانوں کی اتنی لمبی ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کی مشکلیں تو بڑھیں گی ہی ساتھ ہی حکومت کے لیے بھی مشکلیں پیدا ہوگی۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ سال مدھیہ پردیش کے مندسور سے کسان آندولن کی چنگاری بھڑکی تھی۔ مندسور میں فصلوں کی قیمت بڑھانے کی مانگوں کو لے کر کسان آندولن کر رہے تھے، جس میں پولیس نے گولیاں چلا دیں، اس میں کسانوں کی موت بھی ہو گئی تھی۔واضح ہو کہ 6 جون کو ان شہید کسانوں کی برسی ہے۔
غور طلب ہے کہ راشٹریہ کسان مہا سنگھ نے 130 تنظیموں کے ساتھ مل کر مظاہرہ اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں کا یہ 10 دن کا آندولن سبزیوں کی کم از کم قیمت، ایم ایس پی، اور کم از کم تنخواہ سمیت کئی مدعوں کو لے کر کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومتوں نے حالات کو دیکھتے ہوئے شہروں میں پولیس فورس تعینات کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش میں اس آندولن کا سب سے زیادہ اثر دیکھا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش کے جھابوآ علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں کسانوں نے حکومت کے خلاف بند کا اعلان کیا ہے۔ مندسور کے کسانوں نے کسی بھی حالت میں سبزی اور دودھ کو شہر سے باہر بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
کسان آندولن کا اثر اتر پردیش میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آگرہ میں کسانوں نے اپنی گاڑیوں کی آمد و رفت پر پیسہ نہ دینے کے لیے ٹول پر قبضہ کر لیا اور جم کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ساتھ ہی پنجاب اور مہاراشٹر میں بھی کسان آندولن کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔پنجاب میں کسانوں نے کئی علاقوں میں مظاہرے کیے اور سڑکوں پر پھل اور سبزیوں کو پھینک کر اپنی مخالفت درج کرائی۔مہاراشٹر کے پونے کے کھیڈ شیواپور ٹول پلازا پر کسانوں نے 40 ہزار لیٹر دودھ بہا کر اپنی مخالفت درج کرائی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ