مودی سرکار پر شریعت میں مداخلت کا الزام بنیاد پرست، شدت پسند علماءاور ووٹوں کے سوداگر لگا رہے ہیں

آر ایس ایس کے پرچارک اورمسلم راشٹریہ منچ کے سر براہ اندریش کمار سے ہندوستان سماچار کی خصوصی گفتگو

نئی دہلی،04جون،ہ س: مرکز کی مودی سرکار کے چار سال کے دوران شریعت میں مداخلت کئے جانے کاجو لوگ شور مچا رہے ہیں وہ بنیاد پرست اور شدت پسندعلماءہیں اور ووٹ کی سیاست کرنے والے ووٹوں کے سوداگر ہیں ، عام مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آر ایس ایس کے سینئر پرچارک اور مسلم راشٹریہ منچ کے سر براہ اندریش کمار نے ہندوستھان سماچار کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹر ویو کے دوران کیا ۔
مودی سرکار کے چار سال کے دوران مسلمانوں کے ذریعہ یہ الزام لگایا جا رہاہے کہ اس سرکار میںمسلمانوں کی شریعت میں مداخلت کی جارہی ہے ۔سفر حج مہنگا کر دیا گیا ہے ،اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو ختم کیاجارہا ہے ۔ آر ایس ایس لیڈر نے کہا کہ تین طلاق مسلمانوں میں ایک غلط روایت تھی جس سے مسلمان نجات حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے کی بات قرآن اور حدیث میں کہیں نہیں کہی گئی ہے ۔ اس معاملے کو مسلم خواتین نے اٹھایا۔ نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک انہوں نے تین طلاق کے خلاف اپنا مقدمہ لڑا ۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے پر کھلی بحث ہوئی اس کے بعد سپریم کورٹ نے تین طلاق پر پابندی کا فرمان جاری کیا۔ جن خواتین کے ذریعہ تین طلاق کے خلاف مقدمہ لڑا گیا ان کے ساتھ ملک کی نو کروڑ مسلم خواتین کھڑی تھیں۔
تین طلاق کی حمایت کرنے والے بنیاد پرست و شدت پسند علما ءاو رووٹ بینک کی سیاست کرنے والے سوداگر عدالت میں قرآن و حدیث کی روشنی میں تین طلاق کے جائز ہونے کو ثابت نہیں کر پائے۔ عدالت میں اس معاملے پر شکست ملنے پر ان لوگوں کے ذریعہ عدالت کے فیصلے کے خلاف مسلم خواتین کو سڑک پر لانے کی کوشش کی گئی جس میں وہ نا کام رہے ۔ ان لوگوں کے ذریعہ مسلم خوتین کی جو ریلیاں کی گئیںاس میںبہت کم مسلم خواتین نے حصہ لیا ۔ اس کے علاوہ بنیاد پر ست اور شدت پسند علماءنے تین طلاق کے فیصلے کے خلاف دو کروڑ خواتین کے دستخط سرکار کو سونپنے کی بات کہی تھی ۔ اس میں بھی وہ نا کام ہوئے کیونکہ صرف چند لاکھ مسلم خواتین کے دستخط پیش کئے جا سکے او ر وہ بھی کچھ لوگوں کے ذریعہ ایک جگہ بیٹھ کر کئے گئے دستخط ہیں۔
اندریش کمار نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کولے کر سرکار پر جو الزام لگایا جا رہا ہے اس میں عام مسلمان شامل نہیں ہیں۔ جہاں تک عام مسلمانوں کا تعلق ہے ان کا خیال ہے کہ اس پر پابندی کا قانون بنے ۔ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ میری بات اس ملک کے تمام مسلمانوں سے ہوتی ہے ۔ میرا رابطہ مولویوں ،اماموں ،درگاہ والوں ،شیعہ مسلمانوں ،مسلم دانشوروں سے اور عام بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں سے ہوتا ہے ۔کوئی بھی تین طلاق پر پابندی کا مخالف نہیں ملا ہے ۔ اگر یہ لوگ مخالف ہوتے تو ان کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی جاتی ۔ جلسے، جلوس بھی کئے جاتے لیکن ان میں سے کوئی بھی سڑک پر نہیں آیا۔
آر ایس ایس پرچارک اندریش کمار نے کہا کہ حج سفر کومہنگا کئے جانے کا الزام غلط ہے،کیونکہ مودی سرکار نے حج سفرکو اسلام کے مطابق بنایا ہے اور حج سفر پر جانے والے مسلمانوں کو گناہ کرنے سے بچایا اور ان کے حج کو پاک بنانے کا کام کیا ہے ۔ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے آر ایس ایس لیڈر نے کہا کہ اسلام میں کہا گیا ہے کہ حج اپنی محنت اور پاک کمائی سے کرنا چاہئے ۔ سفر حج پرجانے کے لئے کسی کا سہارا نہیں لینا چاہئے ۔ ایسی حالت میں سابقہ سرکاروں کے ذریعہ حج سفر پر سبسڈی دے کر حج سفر کونا پاک کردیا گیا ۔مودی سرکار نے حج سفر پر جانے والوں کے لئے اللہ کے دربار میں قبول ہونے والے حج کا انتظام کیا جولائق ستائش قدم ہے ۔ چونکہ اسلام سفر حج کے لئے کسی طرح کا سہارا یا مدد لینے کو منع کرتا ہے اس لئے حج سفر پر جانے کا جو خرچ آتا ہے اس کو عازمین حج کو برداشت کرنا چاہئے ۔ اس میں کسی ٹیکس کو کم کرنے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ٹیکس میں کمی کی رعایت بھی حاصل کرناامداد کے درجے میں آ جاتاہے جس کو اسلام سختی سے منع کرتا ہے ۔
اندریش کمار نے کہا کہ حج سبسڈی سے بچنے والی700کروڑ کی رقم مسلمانوں کی فلاح و بہود کے کاموںمیں خرچ کی جائے گی۔اس رقم کو مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور مدارس کی تعلیم کی جدیدکاری پر خرچ کیا جائے گا تاکہ یہ لوگ خود کفیل بن سکیں اور سماج اور معاشرے میں با عزت درجہ حاصل کر سکیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ