وزیرا عظم کے دفتر کی ہدایت کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا دہلی جل بورڈ

درگاہ حضرت خواجہ سید ابراہیم کی پانی کی سپلائی کو بحال کرنے میں چار مہینے سے جل بورڈ کر رہا ہے آنا کانی

نئی دہلی،04۔جون ،ہ س :وزیر اعظم کے دفتر سے درگاہ حضرت خواجہ سید ابراہیم کی پانی کی سپلائی بحال کرنے کے حکم نامے کے بعد بھی نئی دہلی میونسپل کونسل اور دہلی جل بورڈ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔دونوں محکمے وزیر اعظم کے دفتر سے ملی ہدایت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔مارچ2018میں وزیر اعظم کے دفتر میں دونوں محکموں کو صاف ہدایت دی ہے کہ درگاہ کے پانی کی سپلائی جو کہ دو سال قبل کاٹ دی گئی تھی اس کو بحال کیا جائے ۔لیکن ہدایت نامہ ملنے کے چار ماہ کے بعد بھی ابھی تک یہاں پر پانی کی سپلائی بحال نہیں کی گئی ۔ اس سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن نے مذکورہ دونوںمحکموں کو نوٹس جاری کرکے درگاہ میں پانی کی سپلائی میں ہو رہی دیری کی وجہ دریافت کی ہے ۔
دہلی میں مدر ٹریزا کریسنٹ پر راشٹرپتی بھون کے گیٹ نمبر 82 کے سامنے دہلی ریج میں واقع درگاہ خواجہ سید ابراہیم میں عرصے سے پانی کا مسئلہ قائم ہے۔ درگاہ کے متولی غازی نورالحسن کے مطابق صدر سنجیوا ریڈی کے زمانے میں صدار تی گارڈزنے اس علاقے پر قبضہ کرکے اسے اپنا پولو گراونڈ بنا لیا تھا اور متعدد قبریں بھی توڑدی تھیں نیز وہ درگاہ جانے والے راستے کو اپنے گھوڑوں کی لید سکھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ متولی کے مطابق دو سال قبل علاقے کے ڈپٹی کمشنر نے درگاہ سے ملحق مدرسہ کو ڈھا دیا تھا اور اس عمل کے دوران درگاہ کی بجلی اور پانی کی سپلائی بھی منقطع کردی تھی۔پھر ایک سال بعد بجلی کی سپلائی تو دوبارہ چالو ہوگئی لیکن پانی کا مسئلہ ابھی بھی حل نہیں ہوا۔متولی کی شکایت پر صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے درگاہ کے علاقے کا دورہ کرکے مسئلے کو سمجھا۔ اسی دوران متولی اور شریمتی نہال دیوی ٹرسٹ کے ذمے دار شری بی۔کے۔کھوسلا کی شکایت پر وزیر اعظم کے دفتر نے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن اور دہلی جل بورڈ کو مارچ میں ہدایت دی تھی کہ درگاہ کے پانی کی سپلائی دوبارہ جاری کردی جائے۔تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود اس ہدایت پر عمل نہیں ہوا ہے۔ اس لئے دہلی اقلیتی کمیشن نے شمالی میونسپل کارپوریشن اور دہلی جل بورڈ کو نوٹس دے کر تاخیر کا سبب پوچھا ہے اور فوری طورپر درگاہ کی پانی کی لائن کو چالو کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ