اردن میں شدید احتجاج کے بعد وزیراعظم برطرف

عوام پر معاشی بوجھ کے دباو کو تسلیم کرتا ہوں، ملک کو درپیش مسائل سے دانش مندی کے ساتھ نمٹنا ہوگا: شاہ عبداللہ دوم

عمان،05۔ جون،ہ س:اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے عوام کے مسلسل احتجاج اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم کی برطرفی کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ میں عوام کے ساتھ ہوں اور ان پر ڈالے گئے معاشی بوجھ کو تسلیم کرتا ہوں۔اس کی اطلاع منگل کو میڈیا رپورٹ سے ملی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قوم کے نام پیغام میں شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ اردن کو کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے دانش مندی اور ذمہ داری کے ساتھ نمٹنا ہوگا۔ ریاست کے تمام ادارے شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔عمان میں صحافیوں ، اخبار نویسوں اور دانشورں کے ایک وفد سے ملاقات میں شاہ عبداللہ نے کہا کہ شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے اور میں کسی صورت میں اردنی عوام کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اردن کی نوجوان نسل حالیہ ایام میں مہذبانہ انداز اختیار کیا ہے اور مجھے اس پر اپنی قوم پر فخر ہے۔ عوام اپنے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ہر اردنی شہری اپنے مستقبل کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کا مستقبل اردن کے مستقبل سے وابستہ ہے۔اس موقع پر اردنی فرمانروا کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو اپنی کاردگی بہتر بنانے، ذمہ داری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیا اسلوک اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے ملک کی خدمت کے لیے نوجوانوں کو آگے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوں اور پڑھے لکھے افراد کا ریاستی اداروں میں آنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اردن کئی طرح کے بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اور ہمیں ان چیلنجز سے ذمہ داری اور حکمت سے نمٹنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔خیال رہے کہ حال ہی میں اردنی حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف عوام نے ملک گیر احتجاج شروع کردیا تھا جس پر بادشاہ سلامت کو حکومت برطرف کرتےہوئے نئی کابینہ تشکیل دینا پڑی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ