ایم پی اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کوشکست دینے کیلئے کانگریس کو بی ایس پی کا سہارا

نئی دہلی، 05 ۔جون ،ہ س: متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی صدر سونیا گاندھی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی کے تحت ہی بنگلورو میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰکمارسوامی کی حلف برداری تقریب میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی کو گلے لگایا تھا۔
دراصل کانگریس کی ممکنہ حکمت عملی آئندہ تین ریاستوں (راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ) میں اسمبلی انتخابات کو لے کر ہے۔ خاص طور پر مدھیہ پردیش (ایم پی) اور چھتیس گڑھ میں پارٹی بی ایس پی کے ساتھ مل کر حکمراں بی جے پی کوشکست دے کر اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہیںایمپی میں 29 اور چھتس گڑھ میں 11 لوک سبھا سیٹیں ہے اور کل 40 سیٹوں میں زیادہ تر پر ریاست میں حکمراں جماعت ہی فتح حاصل کرتی رہی ہے، لہٰذا یہاں سے 2019 کا بھی راستہ کھلنے کی کانگریس کو امید ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ایم پی کانگریس کے ریاستی صدر کمال ناتھ نے کانگریس اور بی ایس پی کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے پر سو فیصد جیت کا دعویٰ قیادت کے سامنے کیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب ان ریاستوں میں بی ایسپی کی فیصلہ کن موجودگی ہے، جس میں کانگریس کوامید کی کرن نظر آر ہی ہے۔ کانگریس رہنما ، بی ایس پی سربراہ مایاوتی سے ایم پی اور چھتیس گڑھ میں اتحاد پر بات چیت شروع کردی ہے۔
اسی سلسلے میںہندوستھان سماچار سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑانے کہا کہمدھیہ پردیش کے 2013 اسمبلی انتخابات کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو کل 230 سیٹوں میں سے بی جے پی کو 165 سیٹیں ملی تھیں اور اس کا ووٹ فیصد قریب 44.88 فیصد تھا۔وہیں کانگریس کو 36.38 فیصد ووٹشیئر کے ساتھ 58 نشستیں جیت لی ہیں۔بی ایس پی نے 4 نشستیں حاصل کی تھیں لیکن اس کا ووٹ شیئر6.43 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ بی ایس پی 11 نشستوں پر تیسرے نمبر پر تھی۔ ان تمام نشستوں میں، بی ایس پی کے امیدواروں نے بی جے پی کو سخت ٹکر دی۔ ایسی صورت میں، اگر کانگریس اور بی ایس پی کااتحادہوتا ہے توبی جے پی کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ دوسری جانب چھتیس گڑھ کے اعداد و شمار بھی اتحاد کا اشارہ دے رہے ہیں۔ 2013 ء کے اسمبلی انتخابات میں، بی جے پی نے 90 نشستوں میں سے 49پر جیت درج کی تھی۔ بی جے پی نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ کانگریس نے 39.3 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ یہاں بھی بی ایس پی کو 4.3 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ ایک سیٹ ملی تھی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ