کتا کہیں کا!

 ڈاکٹر شاکرہ نندنی

“چھوڑئیے صاحب، ہمارے ملک میں تو غریب بھوکا مر جاتا ہے کسی کو فکر نہیں ہوتی، آئے دن خبریں آتی ہیں کہ باپ نے اپنے بیوی، بچوں کو مار کر خود کشی کر لی۔ اب ایسے ملک میں کسی کو بھلا کیا پروا ان معصوموں کی؟ یہ تو آپ جیسے کچھ لوگ زندہ ہیں جو انھیں پالتے ہیں، محبت دیتے ہیں ورنہ کون دستِ شفقت رکھتا ہے ان کے سر پر؟”
میں قریباً آدھے گھنٹے سے اس کی گفتگو سنتا چلا جا رہا تھا۔ اس نے مجھے برابر حیرت میں ڈالا ہوا تھا۔ ماڈل ٹاؤن کے بنک سکوائر میں اس ٹائلوں لگی اونچی دکان کے ٹھنڈے موسم میں اس وقت حیرت کے ساتھ تھوڑی شرمندگی بھی شامل تھی۔ کوئی شخص کسی عام سی، معمولی سی شے پر بھلا اتنی باریک بینی کا حامل ہو سکتا ہے ؟ اور وہ بھی ہمارے معاشرے میں؟ اس ‘اسلامی’ جمہوریہ پاکستان میں!
“کتے” اتنا وسیع موضوع ہے اس کا تصور ہی نہ تھا مجھے۔ جانتا تھا کہ یورپ میں بہت قدر ہے ان کی۔ بچوں سے سَوا محبت ملتی ہے انہیں۔ شیمپو سے نہلایا جاتا ہے، منہ کو چوما جاتا ہے۔اپنے بستر پر سلایا جاتا ہے۔ طبیعت بگڑے تو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ وہ سارے حقوق جو افغانیوں کے پاس نہیں ان کے پاس ہیں۔ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ نجس جانور ہے، گلیوں سڑکوں پہ مارا مارا پھرتا ہے، سنا تھا جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں، پاگل کتے کے کاٹے کو ناف میں چودہ ٹیکے لگوانے پڑتے ہیں اور اگر کتا کسی کنویں میں گر جائے تو غالبا ً نو، دس ڈول نکالنے سے وہ کنواں پاک ہو جاتا ہے۔ یہ تھیں میری کُل معلومات کتوں کے حوالے سے۔ مگر وہ شخص اور اس کی کتوں کے حوالے سے معلومات! اور اس کی وہ تقریر! مجھے خود پر اور ہم پر ترس آنے لگا تھا۔ شاید احساسِ کمتری کا شکار ہوں میں۔ جو بھی جیسی بھی بات کرتا ہے اسے سچ مان لیتا ہوں۔ رد کرنے یا چیلنج کرنے کی ہمت خود میں نہ پاتا ہوں۔ اور تو اور خود سے موازنہ کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ اور ۔۔پھر۔۔ نہ جا نے کیوں، ہمیشہ میری ہی غلطی نکل آتی ہے۔ اس دکان میں ذرا سی بھی بدبو نہ تھی۔ چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو تھی جو شاید کسی روم فریشنر کے نوزل سے برآمد ہوئی تھی اور میں اس ساحر کی باتوں میں کھوتا چلا جا رہا تھا۔ اس کی باتوں کے زیرِ اثر میری سوچ کا محور یہ تھا کہ ہم مسلمان کیوں اس جانور سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی ہر ہر بات دل میں جا کر لگتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا۔
“ہمارا دین نفرت کا دین تو نہیں۔ یہ ہمیں پیار اور محبت سکھاتا ہے۔انسانوں کو انسانوں سے، بلکہ جانوروں سے بھی۔ کتے۔۔۔۔ اور پھر اتنے معصوم کتے کیسے ناپاک ہو سکتے ہیں؟ چلیں آپ بل ڈاگ یا جرمن شیفرڈ کو ناپاک کہہ لیں، مگر کیا یہ روئی کے گالے جیسے پوڈلز بھی نَجَس ہیں؟ کیا ان خوبصورت کتوں کو چھونے سے بھی آپ کا جسم ناپاک ہو جاتا ہے؟۔۔۔ ان سے کون انسان نفرت کر سکتا ہے۔۔۔ کوئی انسان تو نہیں! اور ویسے بھی ہمارے نبی پاکﷺ نے تو ہمیں جانوروں سے محبت کا درس دیا ہمیشہ۔ ضرور یہ مولویوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔”
میری یہ سوچ اور اس کی باتیں جاری تھیں۔ وہ امریکہ پلٹ شخص تھا، ادھیڑ عمر، بھورے بال، ناک پر دھری نازک سی سکن کلر سے ملتی عینک، جینز کے ساتھ ایک ٹی شرٹ میں ملبوس اور پاؤں میں سنیکرز، میرا ہم عمر ہوگا، میں نے سوچا۔ “مگر لگتا نہیں ہے ۔” اس نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا۔ باتیں کرتے ہوئے بار بار کاندھے اچکاتا تھا، بالکل امریکیوں کی طرح! ہمارے سامنے پڑی کافی اور اس کا لہجہ دونوں ‘ امریکانو ‘ تھے! جس نے مجھے اس کا پتہ بتایا اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے سہانے وقتوں میں امریکہ جا کر خوب کمائی کی تھی۔ بہت ڈالر چھاپے تھے۔ پھر وہ واپس آ گیا تھا۔ کیوں؟ مٹی کی یاد میں؟ مگر نہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ وجہ کچھ اور تھی۔ وہ وہاں بہت خوش رہتا تھا۔ وہیں شادی کی تھی اس نے۔ نوجوان بیٹی تھی اس کی ایک۔ اس سے خوب محبت کرتا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ اس نے کسی بدھسٹ سے شادی کر لی۔ اس نے روکنے کی کوشش کی تو ا س نے باپ سے ملنا چھوڑ دیا۔ اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ سب کہتے ہی رہ گئے مگر اس نے علاج پاکستان آ کر کروایا تھا۔ اب اس نے یہاں یہ شاپ کھولی تھی۔ وہاں کتے بیچتا تھا۔
ہمارے یہاں لنڈے میں صرف کپڑے جوتے اور دیگر سامان نہیں آتا، نظریات ، دلائل، ہتھکنڈے یہاں تک کہ شوق بھی آتے ہیں۔ بہت عجیب سی بات ہے، کہ شوق بھی لنڈے کی پیداوار ہوں۔ حالاںکہ شوق تو وہ ہوتا ہے جو دوسروں سے منفرد ہو۔ کسی شے کو دل سے چاہنا شوق ہو سکتا ہے۔ بھلا دل کے معاملے میں کسی دوسرے سے متاثر ہونا کیسا؟ اس معاملے میں تو عقل خرد اور ناصحین کی کہاں سنی جاتی ہے۔ دل آ جائے گدھی پہ، تو پری کیا چیز ہے؟ مگر کچھ ہم جیسے تقلید کے پابندوں کے تو شوق بھی “لنڈوانہ” ہوتے ہیں۔ یہ کتے پالنا بھی ایک لنڈے کا شوق ہوا ناں؟ چاہے وہ کتا شیرو ہی کیوں نہ ہو! مگر یہ سب بھلا مجھے کہاں سمجھ آرہا تھا۔
“دنیا بھر میں انہیں پیار دیا جاتا ہے، ساتھ رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ باقاعدہ چوما بھی جاتا ہے۔” اس کا ایک ہاتھ ایک کتے کی پشت پر گردش کر رہا تھا جس کی نسل اس نے گولڈن ٹریویئر بتایا تھا۔
“مگر ہم مسلمان انھیں ناپاک سمجھتے ہیں۔ یہ بھلا کیوں ناپاک ہونے لگا؟ ” اس نے ایک پستہ قامت لمبے بالوں والے خوبصورت کتے کی طرف ااشارہ کیا تھا۔
” یہ یارک شائر ٹیریئر نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ چھوٹا سا ہی قد ہوتا ہے ان کا اور دو سال کی عمر میں ہی جوان ہوجاتا ہے۔ دو سے پانچ کلو وزن ہے اس کا۔ یہ اتنا خوب صورت ہے کہ کس کافر کا دل اسے چومنے کو نہ چاہے گا مگر ہاں ایسا دل ہو گا اور وہ بھی ایک مسلمان کا!خاص کر پاکستانی مسلمان کا۔ اور یہ دیکھئے۔۔” اس نے جدھر اشارہ کیا تھا وہاں ایک بڑے سے منہ والا کتا تھا؛ عام کتوں سے مختلف۔ تھا تو کتا مگر کتوں سا نہ تھا۔
” بُل ڈاگ نام ہے اس کا۔ سموسے کی شکل کی اندر کو دھنسی ہوئی ہوتی ہے اس کی ناک اور کیا ہی جسم ہے اس کا۔ امریکی کتا ہے نا، اس لئے دہشت ناک ہے۔ دہشت گردوں کی چھٹی کرانے کو یہ کافی ہے۔ اسامہ کو تو یہ اکیلا ہی ڈھونڈ لے! ہاہاہا” وہ ہنسا۔ ” ویسے کافی دوستانہ رویہ رکھتا ہے۔ بچوں وغیرہ سے مانوس ہوجاتا ہے ۔”
” نہیں یار کوئی بے ضرر چیز دکھاؤ۔ میں اسے بھلا گھر میں کیسے رکھ سکتا ہوں؟ میرا شانی صرف چھ برس کا ہی تو ہے۔” میں نے اس سے کہا
” اور یہ بھی اس کی ضد ہے۔ ورنہ میں بھی اس کو گھر نہ رکھوں۔”
وہ مسکرانے لگا تھا۔ ” آپ بھی اسے ناپاک کہتے ہوں گے!” مجھے وہ مسکراہٹ طنزیہ لگ رہی تھی۔
” ہم مسلم لوگوں کے تو لاشعور میں نفرت ہے اس کے خلاف۔ ہم ایک کتے کو برداشت نہیں کر سکتے تو کسی کی بات کیا برداشت کریں گے۔ میری باتوں کو اپنی ذات پر حملہ نہ تصور کیجیے گا۔۔۔کتوں سے محبت دراصل ایک ملک کے لوگوں کے سماجی رویے کی نشانی ہے۔ سمجھ لیجئے ایک تھرمامیٹر ہے جس سے ہم سماج کے شعور کی بڑھوتری کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اب دیکھ لیجئے جن ممالک میں ان کی قدر ہے وہاں اجتماعی شعور بہت بلند ہے۔ وہ ایک دوسرے کی باتیں سن لیتے ہیں، برداشت کر لیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کی آزادی ہے۔ یہ نہیں کہ سلمان تاثیر کو مار ڈالا یا چارلی ہیبڈو پر حملہ کر ڈالا۔ کس قدر سکون اور امن ہے وہاں۔ اور ہمارے یہاں سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے۔ برداشت تو دور سننا ہی گوارہ نہیں۔ لب کھلے نہیں کہ زبان بند کردی گئی! ” وہ ایک عام سا کتوں کو بیچنے والا یا ٹرینر نہ تھا، پورا فلسفی تھا۔ صوبائی دارالحکومت میں اس کا پالتو کتوں کا ایک فارم تھا۔ اس کی دکان پر ہر طرح کے کتے ملتے تھے۔ کچھ اقسام تو اس نے پالی ہوئی تھیں اور جو نہ ملتیں انہیں وہ منگوا دیا کرتا تھا۔
” آپ یہ کتے دیکھیں۔ بلی ورگے ہوتے ہیں یہ۔ چھائی ہوسس ، یا پھر پومی میرینز ۔ ” اس نے کچھ تصاویر دکھائی تھیں اب کی بار۔ تصویر کا مطلب یہ کتے یہاں نہیں تھے اور انہیں کہیں اور سے منگوانا تھا۔۔ غالباً کسی اور ملک سے جو کہ بہت سے پیسوں کا متقاضی تھا۔
” ارے نہیں، اب کتا ہونا تو کتا ہی ہونا چاہئے اب کوئی بلی ورگا ، چوہا ورگا کتا کوئی کیا کرے گا۔” میں نے اسے ٹالنے کو کہا تھا۔ ویسے آج اتوار تھا تو میں اس سے یوں لمبی گفتگو کرنے لگا تھا ورنہ ہمیشہ سے میری عادت صاف ، سیدھی سی بغیر الجھی الجھائی کام کی باتوں سے سی رہی ہے۔
” کیا یاد کرا دیا! ایک کتا واقعی چوہوں سا ہے۔ شکل شباہت یا جسامت میں نہیں بلکہ کمزور دل کا مالک ہے۔ با الفاظِ دیگر “جگرا” نہیں ہے اس میں۔ اور اُس کا نام کیویلیر کنگ چارلس سپینل ہے۔۔ سب کتوں کا بادشاہ ہے یہ۔ من موجی ہے۔ آسانی سے گھل مل جاتا ہے۔”
پھر عجیب سی بات ہوئی۔ میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ایک دم اس کے کان کھڑے ہو گئے اور ناک سکڑ سی گئی، بالکل کسی کتے کی مانند، جاسوس کتے کی مانند ۔ ایک آواز تھی جو قریب آتی جا رہی تھی۔ کسی بلی کی آواز۔ میاؤں میاؤں نہیں یہ مامتا بھری آواز تھی۔ محبت کی چاشنی لئے ہوئے۔ ایک بلی دکان کی طرف بڑھتی چلی آ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں مامتا کا غرور تھا اور ایک نخرے والی چال تھی۔ اس کی دم انگشتِ شہادت کی طرح اٹھی ہوئی تھی۔ ایک سلیٹی سی رنگ کی عام سی معمولی بلی تھی یہ۔ مگر اس وقت یہ عام نہیں تھی، وی آئی پی لگ رہی تھی۔ اس نے بلی کو دیکھ لیا تھا۔ ناک بدستور کچھ سونگھ رہی تھی۔ دوکان کے پچھلے حصے میں سکریپ کے ساتھ پڑے ایک گتے کے بڑے سے ڈبے میں وہ جھانک رہا تھا۔
” فضل ۔۔۔! او فضل! ” اس نے آواز لگائی۔ ایک عجیب سا آدمی اندر داخل ہوا۔ سادہ سی شلوار قمیص میں ملبوس، عام سا جھریوں سے بھراچہرہ۔۔۔۔ جیسا ہر غریب کا ہوتا ہے۔ پاؤں میں سادہ سی سوفٹی تھی اور جسم پر ایک ڈھلکتی ہوئی پرانی بوسیدہ چادر! بالکل اس بلی کی طرح۔
“فضل! میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اس کو کہیں دور پھینک آؤ۔ اب دے دیے نا اس نے یہاں بچے۔ جوئیں ہوتیں ہیں ان آوارہ بلیوں میں۔ ایک بھی کتے کو جوئیں لگ گئیں تو! تمہیں پتا ہے میرا کتنا نقصان ہوگا؟ کچھ خبر ہے؟”
فضل اسے تَک رہا تھا۔ میں نے نزدیک ا کے دیکھا، اس ڈبے میں بلی کے بچے تھے، چنے منے سے۔۔۔ چھوٹے چھوٹے سے کہ جن میں نہ ہی قوتِ گویائی تھی نہ ہی مجالِ چشم کشائی۔ ایک دوسرے کو چپکے وہ یوں پڑے تھے جیسے گوشت کے چند لوتھڑے پڑے ہوں۔ فضل آگے بڑھ رہا تھا۔ اس نے ڈبے کو ہاتھ میں تھاما ہوا تھا۔ میں اسے گنگ سا دیکھ رہا تھا۔ وہ دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے ڈبے کو نیچے سے پکڑا ہوا تھا۔ ڈبے کا ڈھکن کھلا ہوا تھا۔ ڈبے کو نیچے سے تھام کر اس نے ایک زور دار جھٹکا دیا۔ وہ چنے منے سے بلونگڑے ہوا میں بلند ہوئے۔ ان کے لئے یہ دنیا کی چہل پہل سے، اس رونق سے اور اس ہوا سے یہ پہلا تعارف تھا، اور شاید آخری بھی۔ ان کی آنکھیں پھٹی پڑی تھی۔ دل بھی بہت تیزی سے دھک دھک کر رہے ہوں گے۔ ماں کی آواز بھی قریب آتی جا رہی تھی، جس میں بے قراری کی جھلک ہر شخص سن سکتا تھا۔ بہت تیزی سے زمین قریب آتی جا رہی تھی۔ تین فٹ دور۔۔ پھر دو فٹ ، پھر ایک اور پھر۔۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے ہی ایک لینڈ کروزر ۔۔ ظالم لینڈ کروزر منظر پر آئی تھی۔ اس نے زمین پر آنے سے پہلے ہی ان کا استقبال کیا تھا۔ تینوں بلونگڑے مختلف ڈائریکشن میں گرۓ پڑے تھے۔ ایک سڑک کے دائیں طرف، ایک بائیں طرف اور ایک عین درمیان میں۔۔۔ جس کو گاڑی لتاڑ گئی تھی۔ بلی کی آواز میں اب درد تھا، غم تھا، دکھ تھا۔ وہ باری باری ایک ایک لاش کے قریب جارہی تھی، جیسے کسی پل سکون نہ آرہی ہو۔ آج اس کے منہ سے عجیب سی آواز نکل رہی تھی، بہت عجیب! آگے جاکر لینڈ کروزر والی ایک بیوٹی پارلر میں داخل ہو گئی تھی۔اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا البتہ انگریزی میں دوچار گالیاں ضرور سنا دی تھیں۔ ڈرائیور سامنے ہاتھ باندھے کھڑا “یس میم،یس میم” کہہ رہا تھا۔ اور پھر اگلے چند سیکنڈز میں اس کا ڈرائیور ایک کپڑا تھامے ونڈ سکرین پر لگے وہ دو تین قطرے خون کے صاف کر رہا تھا۔ اور میری نظر اس قیمے پر تھی جو تین حصوں میں منقسم میرے سامنے پڑا تھا۔ اور وہ خون۔۔۔! وہ میرے جذبات، تاثرات اور احساسات کا خون تھا۔
پچھلے آدھے گھنٹے کی ساری باتیں میرے سامنے پڑی تھیں۔ جانوروں کی محبت کا عملی ثبوت سڑک پر آویزاں تھا اور میری ٹانگیں مجھے اس دوکان سے دور لے جا رہی تھیں۔
” ارے صاحب۔ آپ کہاں جا رہے ہیں۔” مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے ذرا سا پیچھے دیکھا اور نجانے کیسے میں نے اسے زور سے کہا؛ “کتے کہیں کے!”

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ