2019لوک سبھا الیکشن:50 فیصد سے زیادہ ووٹ کس کو، بی جے پی یا اپوزیشن اتحاد کو؟

نئی دہلی،25مارچ ،ہ س:اپریل -مئی2019 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں ہندی زبان بولی جانے والی ریاستوں میں کس کو 50فیصد سے زیادہ ووٹ ملے گا؟ بی جے پی کو یا ایس پی، بی ایس پی، کانگریس، آر ایل ڈی، آرجے ڈی، جے ایم ایم سمیت دیگر کے اتحاد کو؟۔یہ ایک سوال ہے ۔
بی جے پی کے لیڈر ابھی سے ہنکار بھرنے لگے ہیں کہ ان کی پارٹی کو آنے والے لوک سبھا الیکشن میں50فیصد سے زیادہ ووٹ ملے گا۔ جب کہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے جس طرح سے اکھلیش کی ایس پی اور راہل گاندھی کی کانگریس کے ساتھ اتحاد ہر حالت میں بنے رہنے کا اعادہ کیا ہے۔ اس کے مدنظر ان پارٹیوں کے لیڈران اس اتحاد کو 50فیصد سے زیادہ ووٹ ملنے کی امید ظاہر کرنے لگے ہیں۔ ویسے تو سیاسی تجزیہ کاروں کے وعدے اور دعوے کیسے ہوتے ہیں، سب جانتے ہیں۔ پر جب اعداد وشمار کی جانچ کرتے ہیں تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔اگر اترپردیش کی بات کرتے ہیں تو یہاں2014کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو42.30فیصد، اس کی معاون پارٹیوں کو ایک فیصد کے قریب ووٹ ملے تھے۔ ان دونوں کو ملا کر43.30فیصد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ اتحادی پارٹیوں کے ووٹ فیصد کوجوڑ لیں تو44فیصد کے قریب ہوتا ہے۔ یہ اعداد وشمار اس وقت کے 2014 لوک سبھا الیکشن کا ہے، جب یوپی اے حکومت پر ہزار طرح کے بدعنوانی کے الزامات تھے ۔ اناہزارے اور دیگر کی بنائی ہوئی آندھی پر سوار ہوکر بی جے پی نے مبینہ پانچ بڑے ارب پتیوں کا تعاون حاصل کرکے ووٹ پایا تھا، اس میں بھی بی جے پی کو50فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے تھے، اب تو ویسا ماحول بھی نہیں ہے،ویسی آندھی بھی نہیں ہے۔ پھر کیسے بی جے پی کو آنے والے لوک سبھا الیکشن میں 50فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں گے؟
معلوم ہو کہ2014کے لوک سبھا الیکشن میں اترپردیش میں ایس پی کو22.20فیصد، بی ایس پی کو19.60فیصد، کانگریس کو7.50فیصد ووٹ ملے تھے۔ ان تینوں سیاسی پارٹیوں کو ملے ووٹ کا کل 49.30فیصد ہوجاتا ہے۔ جو کہ بی جے پی سے تقریباً6فیصد زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر اترپردیش میں آنے والے لوک سبھا الیکشن میں صرف ایس پی، بی ایس اور کانگریس ہی مل کر اتحاد بنا کر لڑیں تو بھی بی جے پی پر بھاری پڑیں گے۔ اس اتحاد میں اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل کو بھی جوڑ لیں تو اس کی وجہ سے مغربی اترپردیش میں ایک فیصد سے زیادہ ووٹ بڑھ جائے گا۔ اس اعداد وشمار کے مطابق اگر2014کا ماحول میں ہی2019کا لوک سبھا الیکشن ہو تو بھی اس اتحاد کو بی جے پی سے7فیصد زیادہ ووٹ ملنے کا امکان ہے۔
اس اتحاد کو اورطویل کیا گیا اور یہ بڑھ کر ایس پی، بی ایس پی، کانگریس، آر ایل ڈی، جے ایم ایم، کا اتحاد ہوگیا تو اس کا اثر نہ صرف اترپردیش،بہار، جھارکھنڈ پر پڑے گا بلکہ اتراکھنڈ، ہماچل، راجستھان، مدھیہ پردیش پر بھی پڑے گا، اگر اس کے ساتھ ترنمول کانگریس بھی آگئی تو اس کا اثر مغر بنگال پر بھی پڑے گا۔ اور یہ بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا اپوزیشن اتحاد ہوجائے گا۔ اس بارے میں اپوزیشن کے ایک بڑے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ کا آپسی بات چیت میں کہنا ہے کہ تب تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راو¿ اورآندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندر بابو نائیڈو کا تیسرے یا چوتھے مورچہ کا خواب اور کھیل تو خراب ہوہی جائے گا، بی جے پی کےلئے بھی50فیصد ووٹ پانے کا ہدف بھی مشکل ہوجائے گا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com