2019میں یو پی ،مہاراشٹر،بہار طے کرے گا کس کی بنے گی سرکار

سال 2014میں ان تین ریاستوں کی 168لوک سبھا سیٹوں میں سے این ڈی اے نے 148جیتی تھی،سال2019میں ان 168میں سے 120سیٹوں پر اپوزیشن کی نظر

نئی دہلی ،05،اگست،ہ س: سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے پیش نظر اہم اپوزیشن پارٹی یو پی ،بہار ،مہاراشٹر میں بی جے پی کو گھیرنے کی پالیسی بنا رہے ہیں ۔ اس کے لئے یہ آپس میں تال میل کی بات شروع کر دیئے ہیں ۔ ایس ی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ روی پرکاش کا کہنا ہے کہا گر یو پی ،بہار اور مہااشٹر میںاپوزیشن پارٹیوںکا مضبوط اتحاد ہو گیااور تھیک سے سیٹوں کی تقسیم کر کے متحد ہو کر الیکشن کی تشہر کرکے لڑے تو اس کا بہت فائدہ ان تینوںریاستوںمیں تو ہوگا ہی اس کا اثر جھارکھنڈ ،ہریانہ،گجرات ،دہلی ،چھتیس گڑھ اور آندھر پرایش میں بھی پڑے گا۔ روی ورماکا کہنا ہے کہ اگر غیر بی جے پی پارٹی 2014کے لوک سبھا الیکشن میں ہی آپس میں اتحاد کر کے لڑے ہوتے تو 250سیٹیں لائے ہوتے ۔ یہ نہیں کئے تو اب خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ اس بار کچھ پارٹیوں کے لیڈر تھوڑا جھک کر سمجھوتہکرنے کو تیار ہو گہے ہیں ۔ اگر ہو گیا تو بہار یو پی اور مہاراشٹر میں ہی بی جے پی کی سیٹیں2014میں ملی سیٹوں کی ایک تہائی ہو جائیں گی ۔ ان ریاستوں میں بی جے پی کی سیٹیں کم ہوں گی تو اس کی معاون پارٹیوں کی بھی سیٹیں کم ہوں گی ۔ ان تین ریاستوں میں بی جے پی کی سیٹیں کم ہو کر ایک تہائی ہو گئیں تو سرککار بنانا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے ان تینوں ریاستوں خاص طور سے یو پی پر بس سے زیادہ فوکس کردیاہے ۔ یہاں وزیر اعظم نریندر مودی ار بی جے پی صدر امت شاہ لگا تا رکسی نہ کسی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے آ رہے ہیں۔
معلوم ہو کہ بہار کی 40لوک سبھا سیٹوںمیں سے این ڈٰ اے نے 33(اس میں بی جے پی نے22() یو پی کی 80لوک سبھا سیٹوں میں سے این ڈے اے نے 73اس میں سے بی جے پی نے 71) مہاراشٹر کی 48لوک سبھا سیٹوں میں سے این ڈی اے نے 42(اس میں بی جے پی نے 23) سیٹیں جیتی تھیں ۔ ان تینوں ریاستوں کی کل لوک سبھا سیتوں کی تعداد 168ہے ۔ جس میں سے این ڈی اے نے 148 سیٹیں جیتی تھیں ۔ اس میں بی جے پی کو 120سیٹیں ملی تھیں۔ کل 168 لوک سبھا سیٹوں میں سے اپوزیشن کو صرف 20سیٹیں ملی تھیں۔اس لئے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اپوزیشن کا اہم ہدف یو پی بہار اور مہاراشٹر ہے ۔ کیونکہ اپویشن کے اتحاد ہو جانے پر یہاں سیٹیں جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔یہاں اپوزیشن اتحاد کا ماحول بنتے ہی ا سکا اثر مدھیہ پردیش کی 29،راجستھان کی 25،چھتیس گڑھ کی گیارہ،جھارکھنڈ کی چودہ،ہریانہ کی دس ،دہلی کی سات،گجرات کی 26،آندھر پردیش کی پچیس لوک سبھا سیٹوں پر بھی پڑے گا۔
کانگریس جنرلسکریٹر اور تنظیمی وزیر اشوک گہلوت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اتحاد ہو گیا تو 2019لوک سبھا الیکشن کا منظر ہی بدل جائے گا ۔ امید ہے کامیابی ملے گی۔ جب کہ بی جے پی کے سینرءلیڈر اور گجرات پارٹی کے دو بار صدر رہے راجیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ چاہے جو بھی ہو جائے 2019میں پھر سے مودی ہی وزیر اعظم بننے والے ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ