24 سالوں سے مقید ملزم کے پیرول کی عرضی منظور

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سمیت راجستھان حکومت کو نوٹس جاری کیا

ممبئی،23۔ جولائی:24سالوں سے جیل میں مقید ایک ضعیف العمر مسلم شخص کی پیرول پر رہائی کی درخواست کو آج سپریم کورٹ آف انڈیا نے سماعت کے لیئے منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سمیت راجستھان حکومت و دیگر متعلقہ محکمو ں کو نوٹس جاری کیا۔ 1993جئے پور سلسلہ وار ٹرین بم دھماکہ معاملے میں مجرم قرارد یئے گئے محمد امین کی پیرول پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل عرضداشت پر آج سماعت عمل میںآئی۔
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ کہ گذشتہ24 سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے محمد امین کی پیرول پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف نے دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کو بتایا کہ ٹاڈا قانون میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہیکہ ٹاڈا قانون کے تحت سزا پانے والے مجرمین کو پیرول کی سہولت سے محروم رکھا جائے گا بلکہ ہندوستانی آئین کے مطابق ہر مجرم کو پیرول کی سہولت دیئے جانے کی وکالت کی گئی ہے چاہئے اس کا جرم کتنا ہی سنگین ہو لیکن اس کے باوجود جئے پور سینٹرل جیل عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کو پیرول پر رہا نہیں کررہی ہے۔
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے عدالت کو بتایا کہ محمد امین 24 سالوں سے جیل میں مقید ہے اور اس دوران اسے اس کی فیلی اور دیگر رشتہ داروں سے ملنے کا موقع نہیں ملاہے 2 نیز و جیل حکام کا یہ کہنا کہ محمد امین کو پیرول پر رہا کیا گیا تو اس کی رہائی سے نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوسکتا سراسر جھوٹ ہے ۔
آج سپریم کورٹ میں دوران بحث ایڈوکیٹ ارشاد حنیف کے ہمراہ ایڈوکیٹ واصف رحمن خان اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد بھی موجود تھے۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ اس معاملے میں عمر قید کی سزا پانے والے ڈاکٹر جلیس انصاری، ڈاکٹر حبیب احمد خان جمال علوی، محمد اشفاق خان، فضل الرحمن صوفی، محمد شمش الدین، محمد عظیم الدین، محمد امین ، محمد اعجاز اکبر، ابر رحمت انصاری نے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کو متعدد خطوط ارسال کرکے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کی پیرول پر رہائی کے لیئے کوشش کریں جس کے بعد پہلے جئے پور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا اور پھر اب عدالت عظمی میں عرضداشت داخل کی گئی جسے سماعت کے لیئے منظور کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا ۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اس مقدمہ میں ماخوذ ایک ملزم اشفاق احمدکو سپریم کورٹ نے 21 دنوں کے لیے پیرول پر رہا کیا تھا جس کے بعد دیگرملزمین کی عرضداشت داخل کی گئیں ہیں ۔
واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ